12 Selected Shayari of Mir Taqi Mir
Remembered as Khuda-e-Sukhan (the god of poetry), Mir is loved for his simplicity and pathos. Here are some of his most popular couplets.
1
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
2
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
3
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
4
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
5
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
6
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
7
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
8
عشق ایک میرؔ بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
9
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
10
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
11
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
12
چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے